کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 6268
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَتْ : إِِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدِهِ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ، وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے عرض کی: میری عمر بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ میں بال بچے دار بھی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین (یعنی عرب خواتین) میں قریش کی خواتین سب سے بہتر ہیں جو اپنے بچوں کے لئے ان کی کم سنی میں بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر (کے گھر بار) کا خیال رکھتی ہیں۔ (شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا:) سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا بھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔