کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ قريش کی عورتیں سب سے بہترین عورتیں ہیں جو سواری پر چڑھیں
حدیث نمبر: 6267
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نِسَاءُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإِِبِلَ ، أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ : " وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” قریش کی خواتین اونٹنیوں پر سوار ہونے والی (یعنی عرب خواتین) میں سب سے بہتر ہیں یہ اپنے بچوں پر بڑی مہربان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر (کے گھر کا) بھرپور خیال رکھتی ہیں۔ “ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کبھی بھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6267
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (5082)، م (7/ 182). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6234»