کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ لوگ خیر و شر میں قريش کی پیروی کیسے کرتے ہیں
حدیث نمبر: 6264
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ وَدِيعَةَ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الأَنْصَارُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، وَإِِنَّ النَّاسَ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الأَمْرِ : مُؤْمِنُهُمْ تَبَعُ مُؤْمِنِهِمْ ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعُ فَاجِرِهِمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” انصار (مانگنے سے) بچنے والے اور صبر کرنے والے لوگ ہیں۔ بیشک لوگ (اس حکومت) کے معاملے میں قریش کے پیروکار ہیں۔ مومن لوگ قریش کے پیروکار ہیں اور گناہ گار (یعنی کافر لوگ) کفار قریش کے پیروکار ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6264
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3096 و 1006). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6231»