کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر اجازت کہ انسان جاہلیت کے اسباب اور اس کے دنوں کے بارے میں بات کرے
حدیث نمبر: 6259
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا صَلَّى الْفَجْرَ ، " جَلَسَ فِي مُصَلاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَكَانُوا يَجْلِسُونَ ، فَيَتَحَدَّثُونَ ، وَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز ادا کر لینے کے بعد جائے نماز پر تشریف فرما رہتے تھے، یہاں تک کہ سورج نکل آتا اس دوران لوگ بھی بیٹھے رہتے تھے۔ وہ آپس میں بات چیت کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات یاد کر کے ہنسا کرتے تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6259
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1171). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6226»