کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ انس کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6241
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " ، نَسَبَهُ إِِلَى أَبِيهِ .
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ ” کسی بندے کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں سیدنا یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ “ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نسبت ان کے والد کی طرف کی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6241
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الطحاوية» (111): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6208»