کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو ہماری ابو سعید خدری کی خبر کی تاویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ فعل اس وقت منع ہے جب فخر کی بنا پر ہو نہ کہ قرض دینے کی بنا پر
حدیث نمبر: 6240
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا ، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا . فَقَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلا يَسْتَفِزَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ ، لأَنَّ الْقَائِلَ قَالَ : وَيَا ابْنَ سَيِّدِنَا ، فَتَفَاخَرَ بِالآبَاءِ الْكُفَّارِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے ہمارے سب سے بہتر فرد اور اے سب سے بہتر فرد کے صاحب زادے اے ہمارے سردار! اے ہمارے سردار کے صاحب زادے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اپنے محاور ے کے مطابق بات چیت کیا کرو شیطان تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کر دے۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے: قائل نے یہ کہا: تھا: اے ہمارے سردار تو یہ کفار آباؤ اجداد پر فخر کرنے کا مفہوم لئے ہوئے تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6240
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (99/ 127). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6207»