کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ ابن مریم کی تشبیہ عروة بن مسعود سے دی
حدیث نمبر: 6232
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ ، فَإِِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشَدُّهُ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، فَرَأَيْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا صَاحِبَكُمْ ، يَعْنِي نَفْسَهُ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ ، فَإِِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ایسے شخص تھے جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو، پھر میں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، تو وہ عروہ بن مسعود کی شکل سے مشابہت رکھتے تھے پھر میں نے سیدنا ابراہیم کو دیکھا، تو وہ تمہارے آقا کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد آپ کی اپنی ذات تھی) میں نے جبرائیل کو دیکھا، تو ان کی شکل صورت ” دحیہ “ جیسی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6232
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (11): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6199»
حدیث نمبر: 6233
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلامٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْحَارِثَ الأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلِ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ ، وَإِِنَّ عِيسَى قَالَ لَهُ : إِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ ، فَإِِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ ، وَإِِمَّا أَنْ آمُرَهُمْ ، قَالَ : فَجَمَعَ النَّاسَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلأَتْ ، وَجَلَسُوا عَلَى الشَّرُفَاتِ ، فَوَعَظَهُمْ ، وَقَالَ : إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ : أَوَّلُهُنَّ : أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَمَثَلُ ذَلِكَ ، مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا بِخَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرَقٍ ، وَقَالَ لَهُ : هَذِهِ دَارِي ، وَهَذَا عَمَلِي ، فَجَعَلَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي إِِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ ، فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ هَكَذَا ، وَإِِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ ، فَاعْبُدُوهُ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّلاةِ ، فَإِِذَا صَلَّيْتُمْ ، فَلا تَلْتَفِتُوا ، فَإِِنَّ الْعَبْدَ إِِذَا لَمْ يَلْتَفِتِ ، اسْتَقْبَلَهُ جَلَّ وَعَلا بِوَجْهِهِ ، وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ ، وَإِِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ فِيهَا مِسْكٌ ، وَعِنْدَهُ عِصَابَةٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَجِدُوا رِيحَهَا ، فَإِِنَّ الصِّيَامَ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ ، وَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُو ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِِلَى عُنُقِهِ ، وَأَرَادُوا أَنْ يَضْرِبُوا عُنُقَهُ ، فَقَالَ : هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي ، فَجَعَلَ يُعْطِيهِمُ الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ لِيَفُكَّ نَفْسَهُ مِنْهُمْ ، وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ، فَإِِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ ، فَأَتَى عَلَى حِصْنُ حُصَيْنٍ ، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ ، فَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِِلا بِذِكْرِ اللَّهِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهَا : بِالْجَمَاعَةِ ، وَالسَّمْعِ ، وَالطَّاعَةِ ، وَالْهِجْرَةِ ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ ، فَقَدْ خَلَعَ رِبَقَ الإِِسْلامِ مِنْ عُنُقِهِ إِِلا أَنْ يُرَاجِعَ ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ " ، قَالَ رَجُلٌ : وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى ؟ ، قَالَ : " وَإِِنْ صَامَ وَصَلَّى ، فَادْعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالْجَمَاعَةِ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْخَاصُّ ، لأَنَّ الْجَمَاعَةَ هِيَ إِِجْمَاعُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ لَزِمَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ ، وَشَذَّ عَنْ مَنْ بَعْدَهُمْ ، لَمْ يَكُنْ بِشَاقٍّ لِلْجَمَاعَةِ ، وَلا مُفَارِقٍ لَهَا ، وَمَنْ شَذَّ عَنْهُمْ ، وَتَبِعَ مَنْ بَعْدَهُمْ ، كَانَ شَاقًّا لِلْجَمَاعَةِ ، وَالْجَمَاعَةُ بَعْدَ الصَّحَابَةِ هُمْ أَقْوَامٌ اجْتَمَعَ فِيهِمُ الدِّينُ وَالْعَقْلُ وَالْعِلْمُ ، وَلَزِمُوا تَرْكَ الْهَوَى فِيمَا هُمْ فِيهِ . وَإِِنْ قَلَّتْ أَعْدَادُهُمْ ، لا أَوْبَاشُ النَّاسِ وَرِعَاعُهُمْ ، وَإِِنْ كَثُرُوا ، وَالْحَارِثُ الأَشْعَرِيُّ هَذَا : هُوَ أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ ، اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ مَالِكٍ ، مِنْ سَاكِنِي الشَّامِ .
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا یحیی بن زکریا کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ لوگ ان پر عمل کریں سیدنا عیسیٰ نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے۔ آپ ان پر عمل کریں۔ بنی اسرائیل کو بھی ہدایت کریں کہ وہ ان پر عمل کریں، یا تو آپ بنی اسرائیل کو ان کا حکم دیدیں یا پھر میں حکم دے دیتا ہوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں: انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور لوگ اس کے بالاخانوں میں بھی بیٹھ گئے۔ انہوں نے ان لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور یہ کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تم لوگوں کو بھی اس بات کی ہدایت کروں کہ تم ان پر عمل کرو۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو خاص اپنے مال میں سے سونے یا چاندی کے عوض میں کوئی غلام خریدتا ہے اور اسے یہ کہتا کہ یہ میرا گھر ہے یہ میرا کام ہے، لیکن وہ غلام کام کر کے اپنا آقا کی بجائے کسی اور کے حوالے کر دیتا ہے، تو تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کے اس کا غلام اس طرح کا ہو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس نے تمہیں رزق عطا کیا ہے تم اسی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ میں تمہیں نماز پڑھنے کی بھی ہدایت کرتا ہوں جب تم نماز پڑھو تو ادھر اُدھر توجہ نہ کرو کیونکہ بندہ جب (نماز پڑھ رہا ہوتا ہے) اور وہ ادھر ادھر توجہ نہیں کرتا، تو اس کا پروردگار اس کے سامنے ہوتا ہے اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس ایک ایسی تھیلی ہو جس میں مشک موجود ہو اور اس کے پاس کچھ لوگ موجود ہوں، جنہیں یہ بات پسند ہو کہ وہ اس خوشبو کو حاصل کریں، تو روزہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم کرتا ہوں۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جسے دشمن قید کر لیتے ہیں اور اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیتے ہیں۔ وہ اس کی گردن اڑانے کا ارادہ کرتے ہیں وہ شخص یہ کہتا ہے کیا میں تمہیں اپنی ذات کا فدیہ دے دوں، تو وہ انہیں تھوڑا اور زیادہ (فدیہ دینے کی پیشکش) کرتا ہے، تاکہ ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھڑا لے۔ میں تمہیں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پیچھے دشمن تیز رفتاری سے لگا ہوا ہو اور پھر وہ شخص ایک قلعہ کے پاس آ جائے اور اپنے آپ کو اس میں داخل کر کے محفوظ کر لے۔ اسی طرح بندہ اپنے آپ کو شیطان سے صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے ہی محفوظ کر سکتا ہے۔
اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں پانچ باتوں کے ذکر کا حکم دیتا ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ مسلمانوں کی (جماعت کے ساتھ رہنا) حاکم وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہجرت کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے ایک بالشت الگ ہوتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے۔ اس وقت تک، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا اور جو شخص زمانہ جاہلیت کا سا دعویٰ کرتا ہے وہ جہنم میں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کی: اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو نماز پڑھتا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو، تم لوگ (ایک دوسرے) کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ نام کے ذریعے بلاؤ اس نے تمہیں مسلمان اور مومن کا نام دیا ہے اے اللہ کے بندو!۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم الفاظ کے عموم کے ذریعے ہے، لیکن اس کے ذریعے خاص مفہوم مراد ہے کیونکہ جماعت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا متفق ہونا ہے، تو جو شخص اس چیز کو لازم پکڑے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا اور ان کے بعد آنے والے لوگوں سے مختلف رائے اختیار کرے وہ جماعت سے علیحدہ ہونے والا یا اس کو ترک کرنے والا شمار نہیں ہو گا، لیکن جو شخص صحابہ کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور ان کے بعد میں آنے والوں میں سے کسی کی پیروی کرے وہ جماعت سے الگ ہونے والا شمار ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد جماعت مختلف قسم کے لوگ ہیں جن میں دین عقل اور علم کا اتفاق ہوا اور ان لوگوں نے خواہش نفس کی پیروی کو ترک کیا۔ اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے۔ اس سے مراد عام اور فضول لوگ نہیں ہیں اگرچہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ حارث اشعری نامی راوی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں ان کا نام حارث بن مالک ہے اور یہ شام میں رہائش پذیر تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6233
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 189 - 190)، «المشكاة» (3694). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6200»