کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ نبی اللہ داود علیہ السلام پر ملاقات کے وقت فرار کی نفی ہے
حدیث نمبر: 6226
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ؟ إِِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ ، هَجَمَتْ لَكَ الْعَيْنُ ، وَنَقَهَتْ لَكَ النَّفْسُ ، لا صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ، صَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ ، إِِنَّ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلا يَفِرُّ إِِذَا لاقَى " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، تم اس طرح کرو گے تو تمہاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور تمہارا جسم کمزور ہو جائے گا؟ جو شخص روزانہ نفلی روزہ رکھتا ہے اس نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا ہر مہینے کے تین روزے رکھنا پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھا کرتے تھے اور وہ جب دشمن کا سامنا کرتے تھے تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6226
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3990): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6193»