کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر لفظ جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس خبر کی ہماری تاویل غلط ہے
حدیث نمبر: 6224
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، فَرَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ ، فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ إِِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ، فَإِِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَإِِنَّكَ تَعِيشُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُكَ سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ ، قَالَ : الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ " أَجِبْ رَبَّكَ " ، قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ التَّأْوِيلَ الَّذِي قُلْنَاهُ لِلْخَبَرِ مَدْخُولٌ ، وَذَلِكَ فِي قَوْلِ مَلَكِ الْمَوْتِ لِمُوسَى : " أَجِبْ رَبَّكَ " بَيَانٌ أَنَّهُ عَرَفَهُ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا شَالَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ ، قَالَ لَهُ : " أَجِبْ رَبَّكَ " ، تَوَهَّمَ مُوسَى أَنَّهُ يَتَعَوَّذُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ دُونَ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ إِِلَيْهِ ، فَكَانَ قَوْلُهُ : " أَجِبْ رَبَّكَ " الْكَشْفَ عَنْ قَصْدِ الْبِدَايَةِ فِي نَفْسِ الابْتِلاءِ ، وَالاخْتِبَارِ الَّذِي أُرِيدَ مِنْهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تاکہ ان کی روح قبض کر لے اس نے ان سے کہا: آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور بولا: اے میرے پروردگار کیا تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ٹھیک کر دیا اور فرمایا تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو کیا تم زندگی چاہتے ہو اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں ایک سال کی زندگی مل جائے گی۔ (جب یہ بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بتائی گئی) تو انہوں نے دریافت کیا پھر کیا ہو گا فرشتے نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (تو میں ابھی فوت ہو جاتا ہوں) پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے پروردگار مجھے ارض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور کوئی پتھر جا کر گرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے “ یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتے ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے ملک الموت نے یہ کہا: تھا آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیا تھا۔ اس وقت فرشتے نے ان سے یہ کہا: تھا اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھے وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ اندازہ نہیں ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو اس میں اس کا یہ کہنا: ” اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے۔ “ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے ذریعے مراد لیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6224
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» -أيضا-، «الصحيحة»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6191»