کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جس پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماننے والوں پر طعن کیا گیا کہ وہ اس کے معنی سمجھنے میں کامیاب نہ ہوئے
حدیث نمبر: 6223
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَلَطَمَهُ مُوسَى ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، أَرْسَلْتَنِي إِِلَى عَبْدٍ لا يُرِيدُ الْمَوْتَ ؟ قَالَ : ارْجِعْ إِِلَيْهِ ، فَقُلْ : إِِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالآنَ يَا رَبِّ ، قَالَ : فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ ، لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ ، فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الإِِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ ، عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الإِِخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لإِِصَابَةِ الْحَقِّ ، وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلاءٍ وَاخْتِبَارٍ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ ، لا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهْ ، كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ ، دُونَ الأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِِمْضَاءَهُ ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ ، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمَلائِكَةَ إِِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لا يَعْرِفُونَهَا ، كَدُخُولِ الْمَلائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ ، حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِِيَّاهُ عَنِ الإِِيمَانِ وَالإِِسْلامِ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى ، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَيْهَا ، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا ، فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلا لَمْ يَعْرِفْهُ ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ ، فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا ، لا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا ، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَيْثُ قَالَ : " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ " ، فَذَكَرَ الْخَبَرَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ " : كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الأُمَمِ ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ، أَوِ النَّاظِرِ إِِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ ، وَلا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ ، لِلأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا : كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى ، بِإِِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِِذْنِهِ ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ ، وَلا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِِلَى رَبِّهِ ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلاءٍ كما ذَكَرْنَا قَبْلُ ، إِِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ : قُلْ لَهُ : إِِنْ شِئْتَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ ، وَقَالَ : فَالآنَ ، فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، لاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ ، يَجْمَعُونَ مَا لا يَنْتَفِعُونَ بِهِ ، وَيَرْوُونَ مَا لا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الإِِسْلامُ ، جَهْلا مِنْهُ لِمَعَانِي الأَخْبَارِ ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الآثَارِ ، مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ ، وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ ان کی روح قبض کر لے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی، تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا، پروردگار نے فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو تو کسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گئی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرشتے سے دریافت کیا: پھر کیا ہو گا۔ اس نے کہا: پھر موت آ جائے گی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار پھر ابھی (میں فوت ہو جاتا ہوں) “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں عرض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اگر میں وہاں ہوتا تو میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا، جو کوہ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مخلوق کا معلم بنا کے بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی) مراد کو واضح کرنے کا مقام عطا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کے مجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی، جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا، یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے، جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف اس لئے بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہے کہ وہ اپنے پروردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کے لئے اور آزمائش کے لئے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دیں، تو یہ خبر معلوم کرنے کے لئے اور آزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا، تو جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا فدیہ عظیم صورت میں دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر) فرشتوں کو اپنے رسولوں کی طرف ایسی شکل و صورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے، جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں پہچان نہیں سکے، یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا۔ اسی طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کئے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس وقت انہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس سے واقف تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام مزاج کے تیز تھے۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کر دیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق تھی جس شکل کو اختیار کر کے وہ آیا تھا۔ اس سے مراد اس کی وہ شکل نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سے اس بات کی صراحت آئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔ “ اس کے بعد پوری روایت ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ” یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے “ تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کا وہی حکم ہے جو پہلی اُمتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، تو ایسا کرنے والے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہے جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املا کروا چکے ہیں، تو یہ بات بھی جائز ہو گی کہ اس بارے میں اس شریعت اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا حکم متفق ہو کہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہو گا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل کیا۔ یہ ان کے لئے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ وہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کے لئے اور آزمائش کے لئے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو، تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام ذہنی طور پر مرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے، تو وہ وہی طرز عمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہو چکا تھا۔
یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتے ہیں۔ وہ رات کے وقت بکریاں چراتے ہیں وہ ایسی چیز جمع کرتے ہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتے ہیں، جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتے ہیں، جو اسلام جنہیں باطل قرار دیتا ہے یہ وہ شخص ہے جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور و فکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتا ہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6223
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (1/ 266 - 267)، «الصحيحة» (3279): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6190»