کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ کلیم اللہ کی تلبيہ اور اس کے حج میں کنکریاں مارنے کا بیان کیا، صلوات اللہ ہمارے نبی اور اس پر
حدیث نمبر: 6219
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى مُنْهَبِطًا وَلَهُ جُؤَارٌ إِِلَى رَبِّهِ بِالتَّلْبِيَةِ " ، وَمَرَّ عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، قِيلَ : ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى مُوسَى يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، خِطَامُهَا مِنْ لِيفٍ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق پہنچے تو آپ نے فرمایا: میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہیں اور وہ تلبیہ کے ذریعے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک گھاٹی سے ہوا تو آپ نے دریافت کیا یہ کون سی گھاٹی ہے، تو بتایا گیا یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مار رہے ہیں۔ اس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ہے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6219
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2023): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6186»