کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے سات خصائل کے بارے میں پوچھا
حدیث نمبر: 6217
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ عَنْ سِتِّ خِصَالٍ ، كَانَ يَظُنُّ أَنَّهَا لَهُ خَالِصَةً ، وَالسَّابِعَةُ لَمْ يَكُنْ مُوسَى يُحِبُّهَا ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَيُّ عِبَادِكَ أَتْقَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَذْكُرُ وَلا يَنْسَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَهْدَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَتْبَعُ الْهُدَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَحْكُمُ ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعْلَمُ ؟ ، قَالَ : عَالِمٌ لا يَشْبَعُ مِنَ الْعِلْمِ ، يَجْمَعُ عِلْمَ النَّاسِ إِِلَى عِلْمِهِ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَعَزُّ ؟ ، قَالَ : الَّذِي إِِذَا قَدَرَ غَفَرَ ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَرْضَى بِمَا يُؤْتَى ، قَالَ : فَأَيُّ عِبَادِكَ أَفْقَرُ ؟ ، قَالَ : صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ ظَهْرٍ ، إِِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا ، جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ ، وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ شَرًّا ، جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ : " صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْقُوصٌ حَالَتُهُ ، يَسْتَقِلُّ مَا أُوتِيَ ، وَيَطْلُبُ الْفَضْلَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے چھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں، جب کہ ساتویں چیز کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ جو ذکر کرتا ہے اور بھولتا نہیں ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا تیرے بندوں میں کون شخص سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا تیرے بندوں میں کون سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو لوگوں کیلئے وہی فیصلہ دے جو وہ اپنی ذات کے لیے دیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ عالم جو علم سے سیر نہیں ہوتا اور لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ جمع کر لیتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب وہ قدرت رکھتا ہو تو معاف کر دے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ خوشحال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو اس چیز پر راضی ہو جو اسے دی گئی ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا تیرے بندوں میں کون سب سے زیادہ غریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص جس کو کم چیزیں دی گئی ہوں۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوشحالی ساز و سامان سے نہیں ہوتی بلکہ خوشحالی دل کا غنی ہونا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس کے من میں خوشحالی ڈال دیتا ہے اور اس کے دل میں پرہیزگاری ڈال دیتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ صاحب منقوص سے مراد یہ ہے جس کی حالت میں نقص ہو اسے جو دیا گیا وہ اسے تھوڑا سمجھتا ہو اور مزید کا طلب گار ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6217
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (3350). * [يَتْبَعُ] قال الشيخ: في الأصل «لا يتبع»! والتصحيح من مصادر التخريج، ومن «الموارد» (50/ 86). * [صَاحِبٌ مَنْقُوصٌ] قال الشيخ: فسرَّه المؤلِّف بما يأتي، لكن وقع في «تاريخ ابن عساكر» وغيره: (سقر)، والظاهر أنه محرّف، وانظر «الصحيحة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6184»