کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے بنی اسرائیل کے اذیت دینے پر صبر کیا
حدیث نمبر: 6212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًَا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَدَلَ فِي هَذَا ، فَقَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ثُمَّ يَصْبِرُ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی تو ایک شخص نے اس کے بارے میں یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا اللہ کی قسم! میں ضرور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے انہیں اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔