کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ آدم اور موسیٰ کا احتجاج اور اس کی جنت میں کیے گئے عمل پر عتاب
حدیث نمبر: 6210
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَحَجَّ آدَمَ مُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عَلِمَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالاتِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ " .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بحث ہو گئی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کر دیا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیز عطا کی تھی کہ وہ ہر چیز کا علم رکھتے تھے اور تمام لوگوں میں اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: آپ ایک ایسے معاملے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہیں جو میری تخلیق سے پہلے ہی میرے مقدر میں طے کر دیا گیا تھا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6210
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى (6146 - 6147). تنبيه!! رقم (6146) = (6179) من «طبعة المؤسسة». رقم (6147) = (6180) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6177»