کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جس پر معطلین اور کچھ لوگوں نے جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہ تھے، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ماننے والوں پر طعن کیا کیونکہ وہ اس کے معنی سمجھنے میں کامیاب نہ ہوئے
حدیث نمبر: 6208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ ، إِِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ " ، لَمْ يُرِدْ بِهِ إِِحْيَاءَ الْمَوْتَى ، إِِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لَهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ إِِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى ، وَلَمْ يَتَيَقَّنْ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لَهُ فِيهِ ، يُرِيدُ : فِي دُعَائِهِ وَسُؤَالِهِ رَبَّهُ عَمَّا سَأَلَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِِبْرَاهِيمَ " ، بِهِ فِي الدُّعَاءِ ، لأَنَّا إِِذَا دَعَوْنَا ، رُبَّمَا يُسْتَجَابُ لَنَا ، وَرُبَّمَا لا يُسْتَجَابُ ، وَمَحْصُولُ هَذَا الْكَلامِ أَنَّهُ لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ مُرَادُهَا التَّعْلِيمُ لِلْمُخَاطَبِ لَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں جب انہوں نے یہ کہا:۔ ” اے میرے پروردگار تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ پروردگار نے دریافت کیا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن (میں یہ چاہتا ہوں) تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے وہ ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ میں جانا چاہتے تھے اور جتنا عرصہ سیدنا یوسف علیہ السلام قید خانے میں رہے اگر میں اتنا عرصہ رہا ہوتا، تو بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں “ اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا کے مستجاب ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا: تھا۔ ” اے میرے پروردگار تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ “ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستجاب ہو گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا اور وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتے ہیں، تو بعض اوقات ہماری دعا مستجاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات مستجاب نہیں ہوتی بہرحال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ حق دار ہیں “ اس کے ذریعے یہ مراد نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں شک تھا بلکہ مراد ان کی دعا کے مستجاب ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا: تھا۔ ” اے میرے پروردگار تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ “ انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس بارے میں ان کی دعا مستجاب ہو گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ان کا اپنے پروردگار سے دعا کرنا اور وہ مطالبہ کرنا جو انہوں نے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہم اس دعا کے بارے میں شک کرنے کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ جب ہم دعا کرتے ہیں، تو بعض اوقات ہماری دعا مستجاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات مستجاب نہیں ہوتی بہرحال اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے، لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔