کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر یوسف نے جیل میں اتنا وقت گزارا
حدیث نمبر: 6206
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ يُوسُفَ ، لَوْلا الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا : اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ ، مَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ لُوطًا ، إِِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، إِِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ : لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، قَالَ : فَمَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا بَعْدَهُ ، إِِلا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ کلمہ نہ ہوتا، جو انہوں نے کہا: تھا کہ ” تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کر دینا “ تو سیدنا یوسف علیہ السلام اتنا عرصہ قید خانے میں نہ رہتے جتنا عرصہ وہ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے انہوں نے ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی اس قوم سے کہا:۔ ” یا تو میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہو گی، یا پھر میں ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں بھیجا۔