کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ قوم ثمود جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا انہیں عذاب اسی وجہ سے ملا، اس لیے ان کے مساکن میں داخل ہونے والے کو اس سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 6201
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِ الْحِجْرِ : " لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِِلا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کی بستی والوں کے بارے میں فرمایا: تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں روتے ہوئے داخل ہونا تم یہاں داخل نہ ہونا (یعنی یہاں ٹھہرنا نہیں) کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہو جائے جو انہیں لاحق ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6201
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6168»