کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر قوم صالح کو اللہ جل وعلا سے عذاب ملا
حدیث نمبر: 6197
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ قَالَ : " لا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الآيَاتِ ، هَؤُلاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ آيَةً ، فَكَانَتِ النَّاقَةُ تَرِدُ عَلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا مِثْلَ مَا غَبَّهُمْ مِنْ مَائِهِمْ ، فَعَقَرُوهَا ، فَوُعِدُوا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، وَكَانَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ ، فَلَمْ يَبْقَ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ رَجُلٌ إِِلا أَهْلَكَتْ ، إِِلا رَجُلٌ فِي الْحَرَمِ مَنَعَهُ الْحَرَمُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُوَ ؟ ، قَالَ : " أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قوم ثمود کی بستی کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا، تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی وہ اس راستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کیلئے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وفقہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیئے، تو ان لوگوں کے ساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا) وعدہ کیا گیا یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی تھی، تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! وہ کون شخص تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثقیف قبیلے کا جدامجد ابورغال۔