کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء صلوات اللہ علیہم مختلف ماؤں سے تھے
حدیث نمبر: 6194
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الأَنْبِيَاءُ إِِخْوَةٌ مِنْ عَلاتٍ ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” دنیا اور آخرت میں، میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ “ لوگوں نے دریافت کیا وہ کیسے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے لیکن ہمارے (یعنی میرے اور سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے درمیان) کوئی اور نبی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6194
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2182)، ويأتي أتم منه (6775 و 6782). تنبيه!! رقم (6775) = (6814) من «طبعة المؤسسة». رقم (6782) = (6821) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6161»