کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ شیطان کو ابن آدم پر کوئی قدرت نہیں سوائے وسوسہ ڈالنے کے
حدیث نمبر: 6188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي لأَجِدُ فِي صَدْرِيَ الشَّيْءَ لأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِِلَى الْوَسْوَسَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے اپنے ذہن میں ایسا خیال محسوس ہوتا ہے کہ میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس خیال کے بارے میں کوئی بات کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6188
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (658). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6155»