کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ فرشتوں نے آدم کے زمین پر اترنے پر کہا کہ کیا تو اس میں اسے رکھے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا
حدیث نمبر: 6186
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِِلَى الأَرْضِ ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 30 ، قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ ، قَالَ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلائِكَةِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلانِ ، قَالُوا : رَبَّنَا ، هَارُوتُ وَمَارُوتُ ، قَالَ : فَاهْبِطَا إِِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الإِِشْرَاكِ ، قَالا : وَاللَّهِ لا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلا هَذَا الصَّبِيَّ ، فَقَالا : لا وَاللَّهِ لا نَقْتُلُهُ أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا ، فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِِلا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا ، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزَّهْرَةُ هَذِهِ : امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ، لا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جب سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا تو فرشتوں نے کہا: اے پروردگار! ” کیا تو اس میں اسے (اپنا خلیفہ) بنا رہا ہے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ “ تو پروردگار نے فرمایا: میں وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے “ ان فرشتوں نے عرض کی: ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تم فرشتوں میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ، تو ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں ان لوگوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار ہاروت اور ماروت (پیش خدمت ہیں) تو پروردگار نے فرمایا: تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی وہ دونوں اس کے پاس آئے انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی) ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی، پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی ان دونوں نے پھر اس کے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے (میں تمہاری بات نہیں مانوں گی) ان دونوں نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! ہم اسے کبھی قتل نہیں کریں گے وہ پھر چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر آئی پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا اس نے کہا: جی نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی) ان دونوں نے شراب پی لی وہ دونوں مدہوش ہو گئے انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا جب انہیں ہوش آیا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اس وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہو گئے تھے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی اس سے مراد زہرہ نامی ستارہ نہیں ہے، جو آسمان میں ہوتا ہے، جو خنس (چپھنے والے ستاروں) میں سے ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی اس سے مراد زہرہ نامی ستارہ نہیں ہے، جو آسمان میں ہوتا ہے، جو خنس (چپھنے والے ستاروں) میں سے ہے۔