کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ کہ بچہ اپنے باپ اور ماں سے کیوں مشابہ ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6184
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ " ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ : وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، وَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلا ، كَانَ مِنْهُ الشَّبَهُ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام سلیم جب عورت یہ چیز دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اس بات سے شرم آ گئی (میں نے عرض کی) یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں مرد کا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے جب کہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے ان میں سے جو سبقت لے جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غالب آ جائے بچے کی مشابہت اسی سے ہوتی ہے۔