کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو عام لوگوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ اخبار کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6178
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُنَيْدَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً ، قَالَ مَلَكُ الأَرْحَامِ مُعْرِضًا : يَا رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ عرض کرتا ہے اے پروردگار! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی، تو اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کو سنا دیتا ہے پھر وہ عرض کرتا ہے پروردگار یہ بدبخت ہو گا یا نیک بخت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے پھر وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ سب چیزیں تحریر کر دیتا ہے جس کا وہ شخص (بڑا ہو کر) سامنا کرے گا، یہاں تک کہ اسے جو ٹھوکر لگے گی (وہ بھی تحریر کر دی جاتی ہے)۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6178
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الموارد» (1810). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6145»