کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا جنت اور جہنم کے لوگوں کو ان کے آباء کی پشتوں میں بناتا ہے، اس کے خلاف جو اس کے برعکس کہتا ہے
حدیث نمبر: 6173
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيَ بِصَبِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ خَلْقًا ، فَجَعَلَهُمْ لَهَا أَهْلا وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ ، وَخَلَقَ النَّارَ ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ ؟ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری بچے کو لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ تو جنت کی ایک چڑیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے مخصوص مخلوق کو پیدا کیا ہے اس نے ان لوگوں کو جنت کا اہل بنایا ہے اس وقت جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے اس نے جہنم کو بھی پیدا کیا اور جہنم کے اہل افراد بھی پیدا کئے جبکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6173
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (138). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6140»