کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ لوگوں کی تعداد اور ان کے اعمال کی اوصاف کیا ہیں
حدیث نمبر: 6171
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الأَسَدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ ، وَالأَعْمَالُ سِتَّةٌ : مُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا ، مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الآخِرَةِ ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الآخِرَةِ ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا ، وَشَقِيٌّ فِي الآخِرَةِ ، وَالْمُوجِبَتَانِ مَنْ قَالَ : لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، أَوْ قَالَ : مُؤْمِنًَا بِاللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ دَخَلَ النَّارَ ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ غَيْرُ مُضَعَّفَةٍ ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَبِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ " .
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” لوگ چار طرح کے ہوتے ہیں اور اعمال چھ قسم کے ہوتے ہیں (جنت اور جہنم کو) واجب کرنے والے اعمال، جن کا بدلہ برابر برابر ہو، جس میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو ایک نیکی کا بدلہ سات سو گنا ہو کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں دنیا اور آخرت میں کشادگی نصیب ہوتی ہے کچھ کو دنیا میں کشادگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی نصیب ہو گی کچھ کو دنیا میں تنگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں کشادگی نصیب ہو گی کچھ کو دنیا اور آخرت دونوں میں تنگی نصیب ہو گی کچھ لوگ دنیا میں بدبخت ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی بدبخت ہوتے ہیں دو واجب کرنے والی چیزیں (یہ ہیں) جو شخص یہ کہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اللہ پر ایمان رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا، جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا، جو شخص نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کر لے اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہ کرے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی نوٹ کی جائے گی جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہ کرے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی نوٹ کی جائے گی جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کر لے اس کے نامہ اعمال میں ایک برائی نوٹ کی جائے گی اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور جو شخص اضافی چیز کو خرچ کرے گا، تو اس کا بدلہ سات سو گنا تک ہو گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6171
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2604). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6138»