کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کا علم کہ کون اس نور سے متاثر ہوتا ہے یا کون اس سے محروم رہتا ہے جب وہ مخلوق کو تاریکی میں بناتا ہے
حدیث نمبر: 6170
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ : إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ ، قَالَ : فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَلَقَ النَّاسَ فِي ظُلْمَةٍ ، ثُمَّ أَخَذَ نُورًا مِنْ نُورِهِ ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَصَابَ مَنْ شَاءَ ، وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ ، وَقَدْ عَلِمَ مَنْ يُخْطِئُهُ مِمَّنْ يُصِيبُهُ ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ شَيْءٌ ، اهْتَدَى ، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ، فَقَدْ ضَلَّ " ، فَفِي ذَلِكَ مَا أَقُولُ : إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ .
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں: قلم خشک ہو چکا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” بے شک اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اس نے اپنے نور میں سے نور لیا اور اسے ان لوگوں پر ڈالا، تو جسے اس نے چاہا اس تک وہ نور پہنچ گیا اور جسے اس نے چاہا اس تک نور نہیں پہنچا، حالانکہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ یہ نور کس تک نہیں پہنچے گا اور کس تک پہنچے گا، تو جس تک وہ نور پہنچ گیا اس نے ہدایت پا لی اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا۔ “ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا) اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں قلم خشک ہو چکا ہے (یعنی تقدیر کا فیصلہ طے ہو چکا ہے)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6170
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6137»