کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ لوگوں کے اتحاد اور افتراق کی وجہ کیا ہے
حدیث نمبر: 6168
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی ہیں ان میں سے جو (عالم ارواح میں) ایک دوسرے سے شناسا ہوتی ہیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ایک دوسرے سے شناسا نہیں ہوتی ہیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6168
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5004 / التحقيق الثاني): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6135»