کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6167
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِِذْنِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ : يَرْحَمُكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ ، اذْهَبْ إِِلَى أُولَئِكَ الْمَلائِكَةِ إِِلَى مَلأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : وَعَلَيْكُمُ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ : اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ، فَقَالَ : اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ، ثُمَّ بَسَطَهُمَا ، فَإِِذَا فِيهِمَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ! مَا هَؤُلاءِ ؟ ، فَقَالَ : هَؤُلاءِ ذُرِّيَّتُكَ ، فَإِِذَا كُلُّ إِِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَإِِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ ، أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ ، لَمْ يَكْتُبْ لَهُ إِِلا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، قَالَ : يَا رَبِّ ، مَا هَذَا ؟ ، قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ ، وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ، زِدْهُ فِي عُمْرِهِ ، قَالَ : ذَاكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ ، قَالَ : فَإِِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً ، قَالَ : أَنْتَ وَذَاكَ ، اسْكُنِ الْجَنَّةَ ، فَسَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا ، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : قَدْ عَجِلْتَ ، قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ ، قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً ، فَجَحَدَ ، فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ ، وَنَسِيَ ، فَنَسِيتْ ذُرِّيَّتُهُ ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح کو پھونکا تو انہیں چھینک آ گئی انہوں نے الحمدللہ کہا: انہوں نے اللہ کے حکم کے تحت اللہ کی حمد بیان کی تھی، تو ان کے پروردگار نے ان سے فرمایا تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے اے آدم تم ان فرشتوں کے گروہ کے پاس جاؤ جو بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں سلام کرو، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم، فرشتوں نے جواب دیا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ، پھر سیدنا آدم علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس واپس آئے تو پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ بند تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو پسند کرتا ہوں ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں، پھر پروردگار نے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا تو ان میں سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت موجود تھی۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہے ان میں سے ہر شخص کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے ان لوگوں میں ایک شخص تھا جو چمکدار چہرے کا مالک تھا اس کی عمر صرف چالیس سال لکھی ہوئی تھی سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار یہ کون ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر چالیس برس مقرر کی ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار اس کی عمر میں اضافہ کر دے۔ پروردگار نے فرمایا: وہ میں نے اس کیلئے مقرر کر دی ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی: میں اپنی عمر کے ساٹھ سال اسے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اور وہ (یعنی تمہاری بیوی) جنت میں رہو، تو جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہ جنت میں رہے پھر انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام اپنی عمر شمار کرتے رہے پھر ملک الموت ان کے پاس آیا تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: کیا تم جلدی نہیں آ گئے، میری عمر تو ایک ہزار سال تھی۔ ملک الموت نے کہا: جی ہاں، لیکن آپ نے اس میں سے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد کو دے دیے تھے، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام بھول گئے اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے، تو اس دن (کئے گئے معاہدے) کو تحریر کرنے یا گواہ قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6167
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «المشكاة» (4662). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6134»