کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ آدم کا قد جب اللہ جل وعلا نے اسے بنایا
حدیث نمبر: 6162
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ، وَطُولِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، فَلَمَّا خَلْقَهُ ، قَالَ : اذْهَبْ ، فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفْرِ ، وَهُمْ مِنَ الْمَلائِكَةِ جُلُوسٌ ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ ، فَإِِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ ، قَالَ : فَذَهَبَ فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكَمْ ، فَزَادُوهُ : وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْخَبَرُ تَعَلَّقَ بِهِ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ ، وَأَخَذَ يُشَنِّعُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ الَّذِينَ يَنْتَحِلُونَ السُّنَنَ ، وَيَذُبُّونَ عَنْهَا ، وَيَقْمَعُونَ مَنْ خَالَفَهَا بِأَنْ قَالَ : لَيْسَتْ تَخْلُو هَذِهِ الْهَاءُ مِنْ أَنْ تُنْسَبَ إِِلَى اللَّهِ ، أَوْ إِِلَى آدَمَ ، فَإِِنْ نُسِبَتْ إِِلَى اللَّهِ ، كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا ، إِِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ سورة الشورى آية 11 ، وَإِِنْ نُسِبَتْ إِِلَى آدَمَ ، تَعَرَّى الْخَبَرُ عَنِ الْفَائِدَةِ ، لأَنَّهُ لا شَكَّ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ عَلَى صُورَتِهِ ، لا عَلَى صُورَةِ غَيْرِهِ ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلُ هَذَا إِِلَى بَارِئِهِ فِي الْخَلْوَةِ ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لإِِصَابَةِ الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ لِلطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ فِي لُزُومِ سُنَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنَ الْقَدْحِ فِي مُنْتَحِلِي السُّنَنِ بِمَا يَجْهَلُ مَعْنَاهُ ، وَلَيْسَ جَهْلُ الإِِنْسَانِ بِالشَّيْءِ دَالا عَلَى نَفْيِ الْحَقِّ عَنْهُ لِجَهْلِهِ بِهِ ، وَنَحْنُ نَقُولُ : إِِنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا صَحَّتْ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ، لا تَتَضَادَّ ، وَلا تَتَهَاتَرُ ، وَلا تَنْسَخُ الْقُرْآنَ ، بَلْ لِكُلِّ خَبَرٍ مَعْنًى مَعْلُومٌ يُعْلَمُ ، وَفَصْلٌ صَحِيحٌ يُعْقَلُ ، يَعْقِلُهُ الْعَالِمُونَ ، فَمَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " : إِِبَانَةُ فَضْلِ آدَمَ عَلَى سَائِرِ الْخَلْقِ ، وَالْهَاءُ رَاجِعَةٌ إِِلَى آدَمَ ، وَالْفَائِدَةُ مِنْ رُجُوعِ الْهَاءِ إِِلَى آدَمَ دُونَ إِِضَافَتِهَا إِِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ ، إِِنَّهُ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ سَبَبَ الْخَلْقِ الَّذِي هُوَ الْمُتَحَرِّكُ النَّامِي بِذَاتِهِ اجْتِمَاعَ الذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، ثُمَّ زَوَالَ الْمَاءِ عَنْ قَرَارِ الذَّكَرِ إِِلَى رَحِمِ الأُنْثَى ، ثُمَّ تَغَيُّرَ ذَلِكَ إِِلَى الْعَلَقَةِ بَعْدَ مُدَّةٍ ، ثُمَّ إِِلَى الْمُضْغَةِ ، ثُمَّ إِِلَى الصُّورَةِ ، ثُمَّ إِِلَى الْوَقْتِ الْمَمْدُودِ فِيهِ ، ثُمَّ الْخُرُوجِ مِنْ قَرَارِهِ ، ثُمَّ الرَّضَاعِ ، ثُمَّ الْفِطَامِ ، ثُمَّ الْمَرَاتِبِ الأُخَرِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَا ، إِِلَى حُلُولِ الْمَنِيَّةِ بِهِ ، هَذَا وَصْفُ الْمُتَحَرِّكِ النَّامِي بِذَاتِهِ مِنْ خَلْقِهِ ، وَخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خَلْقَهُ عَلَيْهَا ، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ تَقْدُمُهُ اجْتِمَاعُ الذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، أَوْ زَوَالُ الْمَاءِ ، أَوْ قَرَارُهُ ، أَوْ تَغْيِيرُ الْمَاءِ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً ، أَوْ تَجْسِيمُهُ بَعْدَهُ ، فَأَبَانَ اللَّهُ بِهَذَا فَضْلَهُ عَلَى سَائِرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ خَلْقِهِ ، بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُطْفَةً فَعَلَقَةً ، وَلا عَلَقَةً فَمُضْغَةً ، وَلا مُضْغَةً فَرَضِيعًا ، وَلا رَضِيعًا فَفَطِيمًا ، وَلا فَطِيمًا فَشَابًّا ، كَمَا كَانَتْ هَذِهِ حَالَةُ غَيْرِهِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشْوِيَّةٌ يَرْوُونَ مَا لا يَعْقِلُونَ ، وَيَحْتَجُّونَ بِمَا لا يَدْرُونَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ان کا قد 60 گز تھا، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا: کہا: تو تم جاؤ اور اس گروہ کو سلام کروں۔ فرشتے تھے جو بیٹھے ہوئے تھے تم غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام گئے انہوں نے کہا: السلام علیکم، تو فرشتوں نے جواب میں رحمت اللہ کا اضافہ کیا۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جنت میں جو شخص بھی داخل ہو گا سیدنا آدم علیہ السلام کی طرح اس کا قد 60 گز ہو گا اس کے بعد مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ یہ صورت حال آ گئی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محدثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتے ہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتے ہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں اس شخص نے یہ کہا: کہ لفظ صور کہ میں ضمیر یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو گی، یا سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف منسوب ہو گی اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو یہ چیز کفر ہو گی کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ” اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔ “ اگر اس کی نسبت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف کی جائے تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل و صورت سیدنا آدم علیہ السلام جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجاء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کے حوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگر انسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا، یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کر دی جائے۔
ہم یہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرے گی بلکہ ہر روایت کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتا ہے جسے اہل علم سمجھ جاتے ہیں ہمارے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت میں پیدا کیا “ اس کا مقصد یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ضمیر کے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمیر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشوونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ مذکر اور مؤنث کے اجتماع کی صورت میں (نشوونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل و صورت بن جاتی ہے پھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں، یہاں تک کہ اسے موت آ جاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشوونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جو اس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی، لیکن ان سے پہلے کسی مذکر اور مؤنث کا اجتماع نہیں ہوا۔ مادہ تولید کسی جگہ سے زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آ کر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں، جسم کی شکل اختیار نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتے ہیں کہ وہ پہلے نطفے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھے کہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھرا نہیں تھے کہ دودھ پینے کی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ محدثین حشویہ فرقے کے سے نظریات رکھتے ہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتے ہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہو سکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محدثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتے ہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتے ہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں اس شخص نے یہ کہا: کہ لفظ صور کہ میں ضمیر یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو گی، یا سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف منسوب ہو گی اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو یہ چیز کفر ہو گی کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ” اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔ “ اگر اس کی نسبت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف کی جائے تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل و صورت سیدنا آدم علیہ السلام جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجاء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کے حوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگر انسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا، یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کر دی جائے۔
ہم یہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرے گی بلکہ ہر روایت کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتا ہے جسے اہل علم سمجھ جاتے ہیں ہمارے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت میں پیدا کیا “ اس کا مقصد یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ضمیر کے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمیر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جا سکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشوونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ مذکر اور مؤنث کے اجتماع کی صورت میں (نشوونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل و صورت بن جاتی ہے پھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں، یہاں تک کہ اسے موت آ جاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشوونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جو اس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی، لیکن ان سے پہلے کسی مذکر اور مؤنث کا اجتماع نہیں ہوا۔ مادہ تولید کسی جگہ سے زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آ کر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں، جسم کی شکل اختیار نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتے ہیں کہ وہ پہلے نطفے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھے کہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھرا نہیں تھے کہ دودھ پینے کی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ محدثین حشویہ فرقے کے سے نظریات رکھتے ہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتے ہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہو سکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 6163
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ، جَعَلَ إِِبْلِيسَ يُطِيفُ بِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ، قَالَ : طَفِرْتُ بِهِ ، خَلْقٌ لا يَتَمَالَكُ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، تو ابلیس ان کے جسم کے گرد چکر لگانے لگا جب اس نے انہیں اندر سے خالی دیکھا تو بولا: میں نے اس کو دیکھ لیا ہے یہ مخلوق ق ابومیں رہنے والی نہیں ہے۔