کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "جب اللہ نے مخلوق بنائی" سے مراد جب اس نے ان کی تخلیق کا فیصلہ کیا
حدیث نمبر: 6144
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ ، كَتَبَ فِي كِتَابٍ عِنْدَهُ : غَلَبَتْ ، أَوْ قَالَ : سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضْبَى ، قَالَ : فَهِيَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق (کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس نے اپنے پاس موجود کتاب میں یہ تحریر کیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی ہے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) یا شاید جیسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔