کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کے عرش کا حال آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے کیا تھا
حدیث نمبر: 6142
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : إِِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالُوا : قَدْ بَشَّرْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطِنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ ، إِِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ " ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ ، وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الأَمْرِ ، مَا كَانَ ؟ فَقَالَ : " كَانَ اللَّهُ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ " ، قَالَ : ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ ، رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْهَا ، فَقَدْ ذَهَبَتْ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا ، فَإِِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا ، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہلے بھی خوش خبری دے چکے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (مال و دولت) عطا کیجئے پھر یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اہل یمن تم لوگ خوش خبری حاصل کر لو کیونکہ بنو تمیم نے اسے حاصل نہیں کیا۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم اسے قبول کرتے ہیں ہم اس لیے حاضر خدمت ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے کے آغاز کے بارے میں دریافت کریں کہ یہ کیسے تھا (یعنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلے اللہ تعالیٰ تھا اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس نے ذکر (یعنی لوح محفوظ) میں ہر چیز تحریر کر دی۔
راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے عمران اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔
راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے عمران اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔
حدیث نمبر: 6143
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، كَتَبَ فِي كِتَابِهِ يَكْتُبُهُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ : أَنَّ رَحْمَتِيَ تَغْلِبُ غَضْبَى " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ " مِنْ أَلْفَاظِ الأَضْدَادِ الَّتِي تَسْتَعْمِلَ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا ، يُرِيدُ بِهِ تَحْتَ الْعَرْشِ ، لا فَوْقَهُ ، كَقَوْلِهِ جَلا وَعَلا : وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ سورة الكهف آية 79 يُرِيدُ بِهِ : أَمَامَهُمْ ، إِِذْ لَوْ كَانَ وَرَاءَهُمْ لَكَانُوا قَدْ جَاوَزُوهُ ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا : إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا سورة البقرة آية 26 أَرَادَ بِهِ : فَمَا دُونَهَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں تحریر کیا جو چیز اس نے اپنی ذات پر لازم کی ہے اور وہ تحریر عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے (اس میں یہ تحریر ہے) ” بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” وہ عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے “ یہ ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جو عرب اپنے محاور ے میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد عرش کے نیچے ہے عرش کے اوپر مراد نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے “ اس سے مراد یہ ہے ان کے آگے ایک بادشاہ ہے اگر وہ پیچھے ہوتا تو وہ لوگ وہاں سے گزر آئے تھے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا جو اس سے اوپر ہے (اس کی مثال بیان کرے) “ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز مچھر سے بھی نیچے ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” وہ عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے “ یہ ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جو عرب اپنے محاور ے میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد عرش کے نیچے ہے عرش کے اوپر مراد نہیں ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے “ اس سے مراد یہ ہے ان کے آگے ایک بادشاہ ہے اگر وہ پیچھے ہوتا تو وہ لوگ وہاں سے گزر آئے تھے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا جو اس سے اوپر ہے (اس کی مثال بیان کرے) “ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز مچھر سے بھی نیچے ہو۔