حدیث نمبر: 6136
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَعَبْدَانُ الْحَرَّانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسُوا بِشَيْءٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَحْفَظُهَا ، فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كِذْبَةٍ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! بعض اوقات وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو سچ ثابت ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ کلمہ ہے جو جن کی طرف سے آتا ہے جسے اس نے یاد رکھا ہوتا ہے اسے وہ اپنے ساتھی کے کان میں انڈیل دیتا ہے وہ اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔