کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ جو بارش کے مخصوص وقت میں آنے کا حکم دیتا ہے وہ جھوٹ اور فجور کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ اللہ جل وعلا نے اس کا علم اپنی مخلوق سے مخصوص رکھا
حدیث نمبر: 6134
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَفَاتِحُ الْعِلْمِ خَمْسٌ لا يَعْلَمُهَا إِلا اللَّهُ : لا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلا اللَّهُ ، وَلا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِلا اللَّهُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ أَحَدٌ إِلا اللَّهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” علم کی کنجیاں پانچ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کوئی شخص یہ بات نہیں جانتا کہ رحم سے کیا نکلے گا بس اللہ جانتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا صرف اللہ جانتا ہے کوئی یہ نہیں جانتا کہ بارش کب ہو گی صرف اللہ جانتا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا صرف اللہ جانتا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی صرف اللہ جانتا ہے۔ “