کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر شدت کہ جو اپنے اسباب میں بدشگونی لیتا ہے اور توکل سے عاری ہوتا ہے
حدیث نمبر: 6122
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ الأَسَدِيِّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ، وَمَا مِنَّا إِلا ، وَلَكِنْ يُذْهِبُهُ اللَّهُ بِالتَّوَكُّلِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ علیہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بدشگونی شرک ہے ہم میں سے ہر شخص (کو شگون لاحق ہوتا ہے) تاہم اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔ “