کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ سنت ابو ہریرہ پر مختلف ہوئی اور اس کی صحت کو بالکل نفی کیا
حدیث نمبر: 6117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا طِيَرَةَ ، وَلا هَامَةَ ، وَلا عَدْوَى ، وَلا صَفَرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ ، فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ ، فَتَجْرَبُ الْغَنَمُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” طیرہ، ہامہ عدوی اور صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم ایک خارش زدہ بکری لیتے ہیں اسے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیتے ہیں، تو دوسری بکریاں بھی خارش زدہ ہو جاتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلی کو کس نے خارش کا شکار کیا تھا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العدوى والطيرة والفأل / حدیث: 6117
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6084»