کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر حکم کہ جو اپنے بھائی میں کوئی اچھی چیز دیکھے وہ اس کے لیے برکت مانگے، اور اگر اسے نظر لگے تو اس کے لیے وضو کرے
حدیث نمبر: 6105
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ ، قَالَ : وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ ، قَالَ : فَقَالَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ، وَلا جِلْدَ عَذْرَاءَ ، فَوعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ ، فَاشْتَدَّ وَعَكُهُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ سَهْلا وُعِكَ ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، أَلا بَرَّكْتَ ؟ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ ، تَوَضَّأْ لَهُ " ، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ " .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میرے والد سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خرار کے مقام پر غسل کیا انہوں نے اپنے جسم پر موجود جبہ اتارا، تو عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھ لیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا سہل رضی اللہ عنہ گورے چٹے شخص تھے ان کی جلد بہت خوبصورت تھی عامر بن ربیعہ نے کہا: میں نے آج جو (خوبصورت جلد) دیکھی ہے اس طرح کی جلد تو کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں ہوتی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیمار ہو گئے ان کو تیز بخار ہو گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انہیں عامر بن ربیعہ والے واقعہ کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے کیا تمہیں پتہ نہیں ہے نظر لگنا حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو۔ عامر بن ربیعہ نے ان کے لیے وضو کیا، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چلتے ہوئے آئے یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی)