حدیث نمبر: 6100
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ ، وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا ، وَأَشْيَاءَ نَفْعَلُهَا ، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَا كَعْبُ ، بَلْ هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ " ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حِمْصِيٌّ ثِقَةٌ ، وَلَيْسَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّ .
عبداللہ بن کعب اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ ہم جو دوا استعمال کرتے ہیں، یا جو دم کرتے ہیں یا اس طرح کے دیگر کام کرتے ہیں، تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو بدل دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے کعب بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن حارث حمصی نامی راوی ثقہ ہے یہ عمرو بن حارث مصری نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن حارث حمصی نامی راوی ثقہ ہے یہ عمرو بن حارث مصری نہیں ہے۔