حدیث نمبر: 6084
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ ، فَرَأَيْتُ أُمَّتِي ، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ ، وَهَيْئَتُهُمْ ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرَضِيتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، قَالَ : وَمَعَ هَؤُلاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، فَقَالَ عُكَّاشَةُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ آخَرُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا جب میں نے اپنی امت کو دیکھا، تو ان کی کثرت اور ان کی حالت مجھے بہت اچھی لگی انہوں نے راستوں اور پہاڑوں کو بھر دیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد کیا تم راضی ہو میں نے عرض کی: جی ہاں اے میرے پروردگار۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق) جھاڑ پھونک نہیں کرتے (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے اور فال نہیں نکالتے اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ تو اسے ان میں شامل کر لے پھر ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 6084
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليق. * [حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ] قال الشيخ: ومن طريقه: أخرجه البخاري في «الأدب المفرد» (911)، وأحمد (1/ 403 و 454)، وأبو يعلى (9/ 233 / 5340)، وابن عبد البر في «التمهيد» (5/ 267) كلهم من طرقٍ عنه. وهذا إسناد حسن. وتابعه همَّام: ثنا عاصمٌ ... به مُختصرا نحوه، دون قوله: «لا يسترقون ... ». وأخرجه الحاكم (4/ 415) من الوجه الأول، وقال «صحيح الإسناد»، ووافقه الذهبي. ثُمَّ أخرجه هو (4/ 577)، والمؤلِّف - فيما يأتي (8/ 115 و 9/ 220) -، وأحمد (1/ 401 و 420)، وأبو يعلى (9/ 231 / 5339)، وابن عبد البرِّ (5/ 266) من طريقٍ عن قتادة عن الحسن، [والعلاء بن زياد]، عن عمران بن حصين، عن ابن مسعود به ... مطولاً. والزيادة للمؤلف والحاكم، وصححه هو والذهبي، وهو كما قالا. ورواه البزَّار - أيضاً - (4/ 203 - 204) ... بالزيادة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6052»
حدیث نمبر: 6085
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلَقَةً ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالَ : مِنَ الْوَاهِنَةِ ، قَالَ : " مَا تَزِيدُكَ إِلا وَهْنًا ، انْبِذْهَا عَنْكَ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَمُتْ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ عَلَيْهَا " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں چھلا دیکھا، تو دریافت کیا یہ کس وجہ سے ہے اس نے بتایا یہ کمزوری کی وجہ سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کمزوری میں صرف اضافہ کرے گا اسے تم اتار دو کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم نے یہ پہنا ہوا تو پھر تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 6085
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (1029)، «غاية المرام» (181/ 296). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير مبارك بن فضالة
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6053»