حدیث نمبر: 6083
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رُمِيَ يَوْمَ الأَحْزَابِ سَعْدٌ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ ، فَنَزَفَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ ، فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ أُخْرَى " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزَّجْرُ عَنِ الْكَيِّ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : إِنَّمَا هُوَ الابْتِدَاءُ بِهِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ تُوجِبُهُ ، كَمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تَفْعَلُهُ تُرِيدُ بِهِ الْوَسْمِ ، وَخَبَرُ جَابِرٍ فِيهِ إِبَاحَةُ اسْتِعْمَالِهِ لِعِلَّةٍ تَحْدُثُ مِنْ غَيْرِ الاتِّكَالِ عَلَيْهِ فِي بُرْئِهَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر لگا ان کی ایک رگ کٹ گئی جس میں سے خون بہنے لگا ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے، لیکن ان کا خون بہتا رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں داغ لگانے کی ممانعت ابتدائی زمانہ پر محمول ہو گی جو کسی ایسی علت کے بغیر ہے، جو اس کو واجب کرتی ہو، جس طرح عرب کیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے مراد وسم (یعنی داغ لگوانا ہے)۔ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں اس طریقے کو اختیار کرنے کے مباح ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو کسی ایسی علت کی وجہ سے ہے، جو بعد میں سامنے آئی تھی اور وہ یہ کہ آدمی کے تندرست ہونے میں صرف اس پر تکیہ نہ کیا جائے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جو اس بات کا قائل ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں داغ لگانے کی ممانعت ابتدائی زمانہ پر محمول ہو گی جو کسی ایسی علت کے بغیر ہے، جو اس کو واجب کرتی ہو، جس طرح عرب کیا کرتے تھے اور اس کے ذریعے مراد وسم (یعنی داغ لگوانا ہے)۔ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں اس طریقے کو اختیار کرنے کے مباح ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو کسی ایسی علت کی وجہ سے ہے، جو بعد میں سامنے آئی تھی اور وہ یہ کہ آدمی کے تندرست ہونے میں صرف اس پر تکیہ نہ کیا جائے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جو اس بات کا قائل ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد پایا جاتا ہے۔