کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر حکم کہ کالے زیرہ سے علاج کیا جائے اس کے لیے جس کے مزاج کے لیے یہ مناسب ہو
حدیث نمبر: 6071
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلا السَّامَ " ، يُرِيدُ الْمَوْتَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم پر کلونجی استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اس میں سام کے علاوہ ہر بیماری سے شفاء ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں:) سام سے مراد موت ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطب / حدیث: 6071
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (863): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6039»