کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ بیماریوں کے لیے نشرہ لینا جائز نہیں
حدیث نمبر: 6069
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، فقال أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " اكْشِفِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ ، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بُطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ " .
یوسف بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی دعا کی) ” اے لوگوں کے پروردگار! تو ثابت بن قیس بن شماس سے تکلیف کو دور کر دے۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحان کی مٹی لی اسے ایسے پیالے میں ڈالا جس میں پانی موجود تھا اور وہ پانی ان پر چھڑک دیا۔