کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر منع کہ انسان اپنا خواب کسی عالم یا ناصح کے سوا کسی سے بیان کرے
حدیث نمبر: 6055
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَالرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَيْرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا صَاحِبُهَا ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ ، فَلا تُحَدِّثْ بِهَا إِلا عَالِمًا ، أَوْ نَاصِحًا ، أَوْ حَبِيبًا " .
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” خواب نبوت کا سترواں جزء ہے اور خواب اس وقت تک معلق رہتا ہے، جب تک اسے دیکھنے والا شخص بیان نہیں کرتا جب وہ بیان کر دے پھر وہ واقع ہو جاتا ہے تم اسے صرف کسی عالم کے سامنے یا کسی خیرخواہ کے سامنے یا محبوب (یعنی پسندیدہ شخص) کے سامنے بیان کرو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرؤيا / حدیث: 6055
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (119 و 120). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن لغيره
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6023»