کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ان کے بعد نبوت کی بشارتوں سے کیا باقی رہتا ہے
حدیث نمبر: 6045
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ عَبَّاسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ ، أَلا وَإِنِّي نَهَيْتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا اس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر (نماز پڑھ رہے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مومن دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے عالم میں قرأت کروں جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو جہاں تک سجدے کا تعلق ہے تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہو گی کہ اسے تمہارے لئے مستجاب کیا جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرؤيا / حدیث: 6045
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6013»