کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر تیسری خبر جو ہمارے ذکر کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 6037
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ أَنْ عَلِّمُوا صِبْيَانَكُمُ الْعَوْمَ ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ ، قَالَ : فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الأَغْرَاضِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلامًا ، فَقَتَلَهُ ، وَلَمْ يُعْلَمْ لِلْغُلامِ أَهْلٌ إِلا خَالُهُ ، فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ : فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ الْغُلامِ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اپنے بچوں کو عوم اور اپنے جنگجو افراد کو تیر اندازی سکھاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ لوگ مختلف مقامات پر اس کی مشق کر رہے تھے اسی دوران ایک اندھا تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا وہ لڑکا مر گیا اس لڑکے کے رشتے داروں میں سے صرف اس کے ماموں کا پتہ چلا سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور لڑکے کا معاملہ بیان کیا کہ اس کی دیت کس کے سپرد کی جائے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اللہ اور اس کے رسول اس کے مولیٰ ہوتے ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہوتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الفرائض / حدیث: 6037
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الإرواء» (1700). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6005»