کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے ذکر کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 6036
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَائِذٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمِقْدَامَ حَدَّثَهُمْ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، أَفُكُّ عَنْهُ ، وَأَرِثُ مَالَهُ ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، يَفُكُّ عَنْهُ ، وَيَرِثُ مَالَهُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ وَسَمِعَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ ، وَمَتْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جاتا ہے، تو وہ ہماری طرف آئیں گے، اور جو مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثا کو ملے گا، جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو میں اس کا مولی ہوں میں اس کی طرف سے فدیہ بھی ادا کروں گا اس کے مال کا وارث بھی بنوں گا اور جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اس کا ماموں مولیٰ ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے فدیہ بھی ادا کرے گا اس کے مال کا وارث بھی بنے گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت راشد بن سعد نے ابوعامر کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں، البتہ ان دونوں روایات کا متن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت راشد بن سعد نے ابوعامر کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں، البتہ ان دونوں روایات کا متن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔