کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ ذوی الأرحام کی وراثت باطل ہے
حدیث نمبر: 6035
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ كَلا فَإِلَيْنَا ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ ، أَعْقِلُ عَنْهُ ، وَأَرِثُهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ " .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص بوجھ چھوڑ کر جاتا ہے وہ ہماری طرف آئے گا اور جو شخص مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثاء کو ملے گا میں اس کا وارث ہوں، جس کا کوئی وارث نہیں ہے میں اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی کروں گا اور میں اس کا وارث بھی بنوں گا اور جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث بنتا ہے وہ اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی بھی کرے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔ “