کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: «غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ دونوں عورتوں میں سے مرنے والی مضروبہ تھی نہ کہ ضاربہ
حدیث نمبر: 6020
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ وَلِيدَةٌ ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا ، وَيَرِثُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ تَبِعَهُمْ " فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ : أَنَدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا نَطَقَ ، وَلا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ أَحْدَاثِ الْكُهَّانِ ، مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر اسے قتل کر دیا اسے اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا وہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہو گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی دیت کی ادائیگی اس عورت کے خاندان پر لازم قرار دی عورت کی اولاد اور اس کے دیگر ورثا اس کے وارث بن جاتے۔ اس پر حمل بن نابغہ نے کہا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا میں اس کی دیت دوں میں ایسے شخص کی دیت کیسے دے سکتا ہوں، جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں کچھ بولا: نہیں اونچی آواز میں رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو کاہنوں کی طرح کی بات چیت کر رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجع الفاظ کی وجہ سے یہ بات ارشاد فرمائی۔