کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: «غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر بیان کہ جو عورت مر گئی وہ مضروبہ تھی نہ کہ ضاربہ
حدیث نمبر: 6019
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتِ امْرَأَتَانِ ضَرَّتَانِ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ " ، فَقَالَتْ عَمَّتُهَا : إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ ، وَلا شَرِبَ وَلا أَكَلْ ، فَمِثْلُهُ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ ، غُرَّةٌ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةُ ، وَالأُخْرَى أُمُّ غُطَيْفٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: دو عورتیں ایک دوسرے کی سوکن تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مارا، تو دوسری عورت مر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاندان پر دیت کی ادائیگی کو لازم قرار دیا، تو اس کی پھوپھی نے یہ کہا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس کا ایسا بچہ ضائع ہوا ہے، جس کے بال اگ چکے تھے تو قتل کرنے والی عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹ بول رہی ہے اللہ کی قسم! وہ بچہ نہ تو چیخ کر رویا نہ اس نے کچھ پیا نہ کچھ کھایا اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا زمانہ جاہلیت کی طرح کی مسجع (گفتگو کر رہے ہو) اس میں تاوان دینا ہو گا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک خاتون کا نام ملیکہ تھا اور دوسری کا نام ام عطیف تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الديات / حدیث: 6019
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [سِمَاكٍ] قال الشيخ: هو ابن حرب، وهو مُضطربُ الرواية عن عكرمة - خاصَّة -. وأسباط - وهو ابن نصر الهمداني - مُختلفٌ فِيه، وهو صدوقٌ كثير الخطأ؛ كما قال الحافظ. ومن طريقه: أخرجه أبو داود (4574)، والنسائي في «الكبرى» (7032)، والبيهقي (8/ 215)، وغيرهم. وقد صحَّ مِنْ طريق طاوس، عَنِ ابن عباس … مُختصراً، وهو الآتي بعد حديث. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5987»