کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: «غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر لفظ جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ہمارے ذکر کردہ ضارب عورت مر گئی اس سے پہلے کہ اس کی عصبہ سے عقل لیا جائے
حدیث نمبر: 6018
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لِحْيَانَ ضَرَبَتْ أُخْرَى كَانَتْ حَامِلا ، فَأَمْلَصَتْ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِمْلاصِ الْمَرْأَةِ بِغُرَّةٍ : عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ ، قَالَ : فَتُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عَلَيْهَا الْعَقْلُ : فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا ، وَأَنَّ مِيرَاثَهَا لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو لحیان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے دوسری عورت کو مارا جو حاملہ تھی، تو اس کا بچہ ضائع ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے ضائع ہونے پر تاوان کے طور پر ایک غلام یا کنیز ادا کرنے کا فیصلہ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ عورت فوت ہو گئی جس کے ذمے دیت کی ادائیگی لازم ہوئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ اس کی دیت کی ادائیگی اس کے عصبہ رشتے داروں پر لازم ہو گی جبکہ اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹوں کو ملے گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الديات / حدیث: 6018
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5986»