کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف قتادہ نے زرارة بن اوفی سے بیان کی
حدیث نمبر: 6000
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَا الَّذِي عَضَّهُ ، قَالَ : فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضِمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ؟ ! " .
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹا، دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو کاٹنے والے شخص کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ چاہتے تھے تم اسے یوں چبا لو جس طرح اونٹ چباتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنايات / حدیث: 6000
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبل حديثين. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5968»